یمن اردو: ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی رکنے کی وجہ سے مغربی ایشیا سے کیمیائی کھاد کی برآمدات تقریباً 70 سے 75 فیصد گر گئی ہیں۔ ایرانی چینل پریس ٹی وی نے جہاز رانی کے اعداد و شمار رکھنے والے ادارے "کپلر” کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس سے دنیا بھر میں فصلوں اور کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں پر خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ایک سال میں بڑی کمی
کپلر کے مطابق ستمبر میں اس خطے سے صرف 9 لاکھ 94 ہزار ٹن کھاد باہر گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ مقدار 34 لاکھ 10 ہزار ٹن تھی۔ ادارے کی زرعی اعداد و شمار کی اعلیٰ عہدیدار میڈلین اوورگارڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے کے حالات بہتر نہ ہوئے تو سال کے آخر تک برآمدات اسی کم سطح پر رہیں گی۔
ہرمز کیوں اہم ہے
پریس ٹی وی کے مطابق دنیا کی گندھک کی 25 سے 30 فیصد پیداوار خلیج فارس کے خطے میں ہوتی ہے، اور سمندر کے راستے گندھک کی تقریباً آدھی تجارت آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ یوریا، جو دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کھاد ہے، اس کی سمندری تجارت کا 30 سے 40 فیصد حصہ بھی اسی خطے سے جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر بڑے برآمد کنندگان ہیں، جبکہ بھارت جیسے ملک چاول اور گندم کی کاشت کے لیے انہی پر انحصار کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے ٹرکوں کے ذریعے کھاد بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں تک لے جانے کی کوشش کی، مگر یہ نقصان پورا نہ ہو سکا۔
اگلے سال مہنگائی کا خطرہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کھاد کی کمی کا مطلب اگلے سال چھوٹی فصلیں اور کھانے کی چیزوں کی زیادہ قیمتیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت کے مطابق ستمبر میں کھانے پینے کی چیزوں کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جن میں اناج، خوردنی تیل اور چینی شامل ہیں۔ چین اور روس جیسے دوسرے ملک یہ کمی صرف جزوی طور پر اور زیادہ قیمت پر پوری کر سکے ہیں۔
پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ یہ بحران امریکی اسرائیلی جارحیت کا نتیجہ ہے، جس نے صرف تیل اور گیس ہی نہیں بلکہ دنیا کو کھانا مہیا کرنے والی کھاد کا راستہ بھی روک دیا ہے۔ ایران نے 28 فروری کو اپنے اوپر ہونے والے حملوں کے بعد اپنے دفاع کے حق کے تحت آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ظاہر کیا۔ چینل کے مطابق عالمی منڈیوں میں استحکام کے لیے ایران پر جارحیت کا خاتمہ اور اپنے پانیوں پر تہران کے حق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
ذریعہ: پریس ٹی وی، کپلر


