یمن اردو: امریکی تحقیقاتی صحافی میتھیو کول کی نئی کتاب میں انکشاف ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے اپنے ملک کے مشہور شاعر اور صحافی حبیب الصایغ کو اسرائیل سے تعلقات کی مخالفت کرنے پر حراست میں تشدد کر کے مار ڈالا تھا۔ ایرانی چینل پریس ٹی وی نے یہ خبر کتاب کے حوالے سے دی ہے۔
کون تھے حبیب الصایغ؟
حبیب الصایغ اماراتی اخبار "الخلیج” کے مدیرِ اعلیٰ اور امارات کی ادیبوں کی تنظیم کے سربراہ تھے۔ 11 اگست 2019 کو انہوں نے اپنے کالم میں اسرائیل کو "حقیقی اور فطری دشمن” لکھا اور سوال کیا کہ اسرائیل سے دوستی کرنے والوں کو سب کی طرف سے بولنے کا حق کس نے دیا؟
کتاب میں کیا لکھا ہے؟
کتاب "پرنسز اینڈ تھیوز” کے مطابق اگست 2019 میں اماراتی سکیورٹی اہلکاروں نے ابوظہبی میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا، بیوی کے سامنے ان کے سر پر کپڑا ڈالا اور انہیں ایک حراستی مرکز لے گئے۔ وہاں تفتیش کرنے والوں نے پلاس سے ان کے کئی دانت نکالے اور دھات کی تیز چیز سے بار بار مارا، یہاں تک کہ وہ جان سے گئے۔
مزید پڑھیں: مسلم دنیا کی اہم خبریں
کالم لکھنے کے صرف نو دن بعد، 20 اگست 2019 کو اماراتی سرکاری میڈیا نے ان کی موت کا اعلان کیا مگر وجہ نہیں بتائی۔ ایک سال بعد امارات نے اسرائیل سے باقاعدہ تعلقات قائم کر لیے۔
لاش بھی صحرا میں منتقل
کتاب کے مطابق حکام نے ان کی لاش ایک دن سے زیادہ اپنے پاس رکھی، گھر والوں کو دیکھنے نہیں دی اور بعد میں اسے اصل قبر سے نکال کر صحرا میں ایک بے نشان قبر میں دفنا دیا۔
آزاد تحقیقات کا مطالبہ
انسانی حقوق کی تنظیم "ڈان” نے اقوامِ متحدہ کے تین خصوصی نمائندوں سے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے عہدیدار رائد جرار نے کہا کہ ملک کے سب سے مشہور شاعر کو تشدد کر کے مارنے کے الزامات دل دہلا دینے والے ہیں۔ تنظیم نے موت کا سرٹیفکیٹ، موت کی سرکاری وجہ اور حراست کے ریکارڈ سامنے لانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ اسرائیل سے دوستی کے راستے میں آنے والی ہر آواز کو کس طرح دبایا گیا، جبکہ امت کے عوام آج بھی فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔


